Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

ریکی کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟

جس طرح کسی بھی نظام کی مخالفت کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، اسی طرح ریکی کی مخالفت کی بھی کئی وجوہات ہیں مگر اس مضمون میں یہاں کے حالات اور ماحول کے تناظر میں اُن تمام وجوہات کا ذکر کرنے کی بجائے میں صرف ایک بنیادی وجہ کا ذکر کروں گا اور وہ ہے لا علمی۔

کسی بھی چیز کے بارے میں بہت سے دیگر ذرائع کے علاوہ سب سے بڑا ذریعہ کتابیں ہوتی ہیں۔ فی زمانہ ایک دوسرا بڑا ذریعہ انٹرنیٹ ہے۔ آپ کسی بھی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں تو گھر بیٹھے کر سکتے ہیں تاہم انٹرنیٹ کے سلسے میں ایک خرابی یہ ہے کہ وہاں بہت سی معلومات غیر تصدیق شدہ بھی ہوتی ہیں جن میں تفریق کرنا ایک عام شخص کے لئے نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو تا ہے۔ بہت سے لوگ محض گپ شپ کے لئے ویب سائٹ بنا کر جو چاہے لکھ دیتے ہیں جس سے کئی غلط فہمیاں پھیلتی ہیں اور پڑھنے والے کی راہنمائی غلط سمت میں ہو جاتی ہے۔ جب ایک بار کوئی چیز ذہن میں بیٹھ جائے تو اسے تبدیل کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔

کتابیں گو کہ معلومات کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں ریکی پر کتابوں کے سلسے میں خاصی مشکلات ہیں۔ مغربی ریکی ٹیچروں نے اس موضوع پر بہت اچھی اچھی اور کارآمد کتابیں لکھ رکھی ہیں جو یا تو ہمارے ہاں دستیاب ہی نہیں اور اگر چند ایک ہیں بھی تو بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ اُردو میں چند مختصر مضامین تو شائد مختلف ڈائجسٹوں وغیرہ میں لکھے گئے ہیں مگر کوئی مکمل کتاب میرے علم میں نہیں ہے اور اگر لکھی بھی گئی ہے تو آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کی درست معلومات تک رسائی ہی نہیں ہے۔ ریکی سے دلچسپی رکھنے والے مجبوراً زبانی دستیاب ہونے والی معلومات پر ہی انحصار کرتے اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہیں جس سے نہ صرف یہ کہ ریکی کے بارے میں تسلی بخش وضاحت ہی نہیں ہو پاتی بلکہ کئی غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی ہیں جو ریکی کی مخالفت کا باعث بنتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کسی کو اپنے سوال کا تسلی بخش جواب ہی نہیں ملے گا تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے اس پر یقین نہیں ہے یا پھر سیدھا سیدھا فراڈ کہہ کر دوسروں کو بھی بدظن کرے گا۔ اسی وجہ سے میں ریکی کی ترویج برائے نام ہونے اور اس پر لوگوں کا یقین نہ ہونے کی وجہ لاعلمی کہتا ہوں۔ اگر درست اور مکمل معلومات دستیاب ہوں تو میرے خیال میں کوئی وجہ نہیں کہ اس پر یقین نہ کیا جائے۔ سیکھنا یا نہ سیکھنا ایک الگ بات ہے لیکن کم از کم معلومات تو ہوں۔ اُردو میں یہ صفحات لکھنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ آسان فہم زبان میں اختصار کے ساتھ معلومات مہیا کی جائیں۔ اب کوئی پڑھتا ہے یا نہیں، یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔ باقی رہی ریکی کے بارے میں غلط فہمیوں کی بات، تو اس پر ایک الگ مضمون موجود ہے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے