Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan

ریکی کو شک کی نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟

عام طور پر ہر نئے نظام کو شروع میں شکوک و شبہات اور بے یقینی کا سامنا ہوتا ہے۔ کسی بھی نئے سسٹم کو آسانی سے تسلیم نہیں کیا جاتا، کم از کم اُس وقت تک جب تک کہ اُس کے بارے میں مکمل اور درست معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں۔ ریکی بھی چونکہ ایک نسبتاً نئی چیز ہے اس لئے یہ بھی ان مراحل سے گزر رہی ہے اور چونکہ علاج کے دوسرے طریقوں سے خاصی مختلف بھی ہے اس لئے بے یقینی کا شکار بھی کچھ زیادہ ہی ہے۔

انسان عموماً ایسی چیزوں پر جلدی بلکہ فوراً یقین کر لیتا ہے جو اُس کے حواسِ خمسہ کے معیار پر پوری اُترتی ہوں۔ کوئی چیز خواہ کتنی باریک یا چھوٹی کیوں نہ ہو اگر وہ خوردبین سے بھی نظر آ جائے تو اس کی موجودگی کا یقین کر لیا جاتا ہے لیکن جو چیز نظر نہ آتی ہو اور فوری طور پر محسوس بھی نہ کی جا سکتی ہو اُس کی موجودگی کو تسلیم کر لینا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ریکی کا شمار بھی ایسی ہی چیزوں میں ہوتا ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔ اسی لئے لوگ اسے آسانی سے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ اکثریت اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتی کہ کوئی ایسی توانائی بھی ہے جو محض ہاتھ رکھ دینے سے رواں ہو سکتی ہے اور علاج کر سکتی ہے۔ چونکہ اُنہیں پوری بات معلوم نہیں ہوتی اس لئے انہیں زیادہ غلط بھی نہیں کہا جا سکتا۔

ایک اہم پہلو اعتبار اور اعتماد کا بھی ہے۔ بد قسمتی سے نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں دھوکہ بازوں کی کمی نہیں ہے۔ لوگ غیر مرئی طاقتوں کا جھانسہ دے کر سادہ لوح لوگوں کو نہ صرف لوٹتے ہیں بلکہ بہت مرتبہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تو جعلی عاملوں کے قصّے عام ہیں جو بے اعتباری کو جنم دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے جو لوگوں کو ریکی پر بھی شک کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ شک اُس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک درست اور پوری معلومات حاصل نہیں کر لی جاتیں یا پھر کوئی ایسا شخص تصدیق نہیں کر دیتا جو خود ریکی سیکھ چکا ہو یا ریکی سے علاج کروا چکا ہو۔ جو ریکی سیکھتے ہیں وہ بھی اُس وقت تک پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے جب تک ریکی کے اثرات کا خود تجربہ نہیں کر لیتے۔

ریکی کی صحیح سمجھ اسے استعمال کرنے سے آتی ہے نہ کہ محض کتابیں پڑھ لینے سے۔ جیسے جیسے اسے استعمال کیا جاتا ہے اور نتائج خود دیکھے اور محسوس کئے جاتے ہیں ویسے ویسے اس پر نہ صرف یقین بڑھتا ہے بلکہ خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہو تا ہے۔ یہ چیز بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ریکی سے فائدہ صرف اسے استعمال کرنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، محض سمجھ لینے یا سیکھ لینے سے نہیں۔

کسی چیز کے بارے میں متجسس ہونا اچھی بات ہے لیکن کسی چیز کو نامکمل معلومات یا محض شک کی بنیاد پر مسترد کر دینا یا اُس کی مخالفت کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ ریکی اب اتنی نامعلوم اور نئی بھی نہیں رہی۔ اس پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور انٹرنیٹ پر بھی بہت سی معلومات دستیاب ہیں۔ مغربی دنیا تو اس سلسلے میں بہت آگے جا چکی ہے۔ یہاں پر ضرورت صرف دلچسپی لینے اور وقت نکال کر پڑھنے کی ہے تاکہ بجائے شک میں پڑے رہنے کے ریکی کو درست طور پر سمجھا اور اس سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے