Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

بیماری ٹھیک ہونے کا عرصہ

کسی بیماری سے فوری نجات کی خواہش قدرتی ہوتی ہے لیکن ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہر بیماری فوری طور پر ٹھیک نہیں ہو جاتی۔ کسی بیماری کے مکمل علاج اور اس کے ٹھیک ہونے کا دورانیہ یعنی اس میں کتنا عرصہ لگے گا، اس کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے جن میں بیماری کی نوعیّت، شدّت، علاج میں باقاعدگی، ادویات کے استعمال میں باقائدگی، ادویات یا علاج کا درست ہونا، پرہیز اور مریض کے جسم کا ردّ ِعمل وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام اور دیگر کئی عوامل کی وجہ سے ایک ہی قسم کی بیماری میں بھی مختلف افراد کے لئے علاج کا عرصہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھا جائے تو آسانی سے سمجھ آتا ہے کہ تندرست ہونے کے لئے درکار عرصے کا پیشگی اور درست تعیّن کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ سب سے بڑی چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوتی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انسان تب ہی شفأ پا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ چاہے، ورنہ دنیا کا کوئی علاج بھی کارگر نہیں ہو سکتا۔

ریکی سے علاج میں بھی ان تمام  پہلوؤں کی اہمیّت ہوتی ہے۔ باقائدہ علاج سے معمولی نوعیّت والے عام امراض اور کم شدّت والے امراض جلدی ٹھیک ہوجاتے ہے جبکہ پُرانے، پیچیدہ اور شدّید امراض میں ان کے مطابق زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

بیماریوں کے علاج کے معاملے میں ریکی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بیماری کی وجہ معلوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کی وجہ جدید میڈیکل سائنس میں بھی معلوم نہیں ہے اس لئے وہاں ان کا علاج بھی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ریکی ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ بیماری کیسی بھی اور اس کی وجہ کچھ بھی ہو، ریکی اس کی جڑ تک پہنچ کر اسے درست کرتی ہے۔ مناسب نتائج کے لئے ریکی کو روزانہ کم از کم ایک بار اور اگر ضرورت ہو تو کئی بار استعمال کیا جانا چاہئے۔ جتنا بھی استعمال کیا جائے، ریکی سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

ایک نہائیت اہم پہلو جو نہ صرف عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے بلکہ اسے سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی اور وہ ہے سوچ کا انداز۔ اگر یہ انداز منفی ہو گا تو اس کے اثرات بھی منفی ہوں گے۔ ایسی صورت میں طریقہ علاج جو بھی ہو، تندرست ہونے میں بہت وقت لگ جائے گا۔ لہٰذا نہ صرف علاج کے دوران بلکہ اس کے علاوہ بھی سوچ مثبت رکھنی چاہئے اور علاج بھی صبر و سکون سے کرنا چاہئے۔

Impatience is never the solution to any problem. . If you ever feel impatience over some thing, remind yourself that impatience will not solve your problem. It will however take away your peace of mind.

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے