Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

ریکی ایک حقیقت یا افسانہ

انسانی فطرت ہے کہ وہ کسی چیز پر یقین کرنے سے پہلے اسے اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے پرکھتا ہے، فوراً ہی تسلیم نہیں کر لیتا۔ جو چیز ان پیمانوں کے معیار پر پوری نہیں اُترتی، اسے آسانی سے ماننے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ ثبوت مانگتا ہے۔ تاہم دنیا میں کئی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم حواسِ خمسہ کے ذریعے نہیں پہچان سکتے بلکہ مختلف آلات وغیرہ سے جانچتے ہیں۔ جب آلات ثابت کر دیتے ہیں تو بلا تامل تسلیم کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقناطیسی قوت کو ہم اپنی ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے لیکن آلات کے ذریعے جانتے اور مانتے ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے اثرات آلات کے بغیر بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں مگر اُنہیں آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ مثلا ہوا ہمیں نظر نہیں آتی مگر ہم اسے استعمال کرتے ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں۔ دوسری طرف کائنات میں بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے حواسِ خمسہ پر پورا اُترنا تو کیا، ہماری عقل سے ہی بالا تر ہیں۔ ایسی بہت سی چیزوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن کسی چیز کے سمجھ نہ آنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ موجود ہی نہیں ہے اور اس کی حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے افسانہ کہہ دیا جائے۔

One of the positions of Reiju

ریکی بھی ایک ایسی توانائی ہے جسے ہم آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے مگر اس کے اثرات محسوس کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس کی موجودگی ہمارے حواسِ خمسہ کے پیمانوں پر پوری نہیں اُترتی، اس لئے آسانی سے تسلیم نہیں کی جاتی لیکن اسے محض افسانہ یا وہم نہیں کہا جا سکتا۔ ریکی صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں سیکھی اور سکھائی جاتی ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک تو اس سلسلے میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ جب ہم دُنیا میں ریکی کی ترویج پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی حقائق سامنے آتے ہیں جن میں سے چند ایک سوالوں کی شکل میں درجِ ذیل ہیں۔

ڈاکٹر یوسوئی نے 1923 کے ٹوکیو کے مشہور زلزلے کے بیشمار متاثرین کا ریکی سے علاج کیا جس کی بدولت شہنشاہِ جاپان نے اُنہیں اعزاز سے نوازا۔ کیا وہ اعزاز ریکی کے بارے میں حکومتی سطح پر تحقیق کئے بغیر دیا گیا ہو گا؟

ولیم لی رینڈ امریکہ کے ایک بہت مشہور ریکی ٹیچر ہیں۔ ریکی کے حوالے سے ان صاحب نے امریکی عدالتوں میں پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں کچھ کیس جیتے جن میں کرونا ریکی کے برینڈ نام کا معاملہ بھی تھا۔ اگر ریکی ایک افسانہ ہی ہے تو عدالت میں یہ چیز ثابت کیوں نہ ہوئی اور کرونا ریکی ان صاحب کے نام پر رجسٹر کیوں ہوئی؟ کیا عدالت نے یہ نہیں پوچھا ہو گا کہ یہ ریکی ہے کیا؟

برطانیہ میں ریکی کی پریکٹس کے متعلق قوانین بن چکے ہیں۔ کیا قوانین بنانے والوں نے ریکی کے بارے میں چھان بین نہیں کی ہو گی اور اس کی حقیقت کے بارے میں پوری تسلی نہیں کی ہو گی؟

امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ بھی کچھ ممالک کے کئی چیدہ چیدہ اسپتالوں میں ریکی استعمال کی جا رہی ہے۔ کیا اتنے ترقی یافتہ ممالک نے کسی تحقیق کے بغیر محض سنی سنائی بات پر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا ہو گا؟ اور کیا ایسی اجازت دینے سے پہلے ریکی کے اثرات کے متعلق پوری طرح اطمینان نہیں کر لیا گیا ہو گا کہ یہ واقعی نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ فائدہ مند بھی؟

بہتر ہو گا کہ ریکی کو فراڈ، وہم یا افسانہ کہنے والے خود ہی ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی زحمت کر لیں۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے