Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

ریکی کا مذہب سے کیا تعلق ہے؟

ریکی ایک نظر نہ آنے والی غیر مادّی توانائی ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے استعمال سے ہچکچاتے ہیں اور اس کے مذہب سے تعلق کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریکی گو کہ ایک غیر مادّی اور قدرتی توانائی ہے لیکن اس کا نہ تو مذہب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ کوئی عقیدہ ہے۔ اسی طرح یہ کوئی جادو یا نفسیاتی طریقہ علاج بھی نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو تخلیقِ کائنات کے وقت سے ہی موجود ہے اور ہر عقیدے اور مذہب کے پیروکاروں کے لئے دوسری قدرتی توانائیوں کی طرح عام ہے۔ اسے سیکھنے یا استعمال کرنے کے لئے کسی خاص عقیدے پر کاربند ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس موضوع پر کتابوں میں اور انٹرنیٹ پر بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت سی وضاحتیں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کئی خواتین و حضرات ابھی تک شک و شبہے کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر مکاؤ یسُوئی جنہوں نے دنیا کوریکی سے روشناس کرایا، گو کہ بُدھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریکی کا تعلق بھی بُدھ مذہب سے ہے۔ ہر وہ شخص جس نے بھی دنیا کو کوئی نیا سسٹم دیا اُس کا تعلق کسی نہ کسی مذہب سے تو تھا مگر اس سے اُس سسٹم کا دائرہ کار اُسی مذہب کے پیروکاروں تک محدود نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا ہر کوئی اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے بھی ریکی سیکھ سکتا اور آزادی سے استعمال کر سکتا ہے۔

باقی علوم کی طرح ریکی ٹیچر اور طالب علم کا تعلق دو مختلف عقائد کے ساتھ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا بالکل ویسے ہی جیسے معالج اور مریض کا تعلق مختلف عقائد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ شرک تو بہت دور کی بات ہے، ریکی سیکھنے، سکھانے یا پریکٹس کرنے سے تو مذہب کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ تاہم اگر کوئی چاہے تو اپنے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ سے بہتری کی دُعا کے ساتھ علاج شروع کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے