Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

جانوروں پر ریکی کے اثرات

اﷲ تعالیٰ نے ریکی کو اس طرح تخلیق فرمایا ہے کہ یہ نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ تمام جانداروں کے لئے بھی عام ہے۔ اس کا اثر جس طرح انسانوں پر ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر قسم کے جانوروں اور پودوں پر بھی ہو تا ہے۔ اگر اُنہیں ریکی دی جائے تو نہ صرف اُن کی نشوونما میں بہتری آتی ہے بلکہ وہ اپنے انداز میں خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ہمیں چونکہ اُن کی زبان سمجھ نہیں آتی اور ہم اُن کے جذبات کو محسوس نہیں کرتے، اس لئے اُن کے اظہار کو بھی سمجھ نہیں پاتے لیکن اگر غور کیا جائے تو کچھ تھوڑا بہت سمجھ آ ہی جاتا ہے۔ یہاں میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔

یہ سال 2010 کی بات ہے۔ تاریخ تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ گرمیوں کا موسم تھا، بجلی بند تھی، آفس میں لنچ کا وقفہ تھا اور میں لنچ سے فارغ ہو کر آفس کے لان میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ اچانک میری نظر ایک زرد رنگ کی بھڑ پر پڑی جو زمین پر گری ہوئی تھی اور اسے چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں لیکن وہ کوشش کے باوجود اُڑ نہیں پا رہی تھی اور نہ ہی چیونٹیوں سے جان چھڑا پا رہی تھی۔ اس طرح کی بھڑیں ہمارے یہاں گرمیوں کے موسم میں عام پائی جاتی ہیں۔ میں یہ تو نہ سمجھ سکا کہ بھڑ بیمار تھی یا زخمی لیکن اتنا بہر حال طے تھا کہ وہ اُڑنے کے قابل نہیں تھی۔ بجائے اُسے پاﺅں سے کچل دینے کے، اچانک میرے ذہن میں خیال گونجا کہ مجھے اس بیچاری کی مدد کرنی چاہئے۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے اُسے فاصلے سے ایک مخصوص طریقے سے ریکی دینی شروع کر دی۔ لگ بھگ ایک منٹ کا وقت گزرا ہو گا کہ اُس بھڑ نے اچانک اُڑان بھری لیکن چند فٹ کے فاصلے تک ہی جا سکی اور دوبارہ زمین پر گر گئی۔ اب کم از کم چیونٹیوں سے تو اس کی جان چھوٹ گئی لیکن میں نے ریکی جاری رکھی۔ چند لمحوں کے بعد اُس نے ایک دفعہ پھر اُڑنے کی کوشش کی مگر نزدیکی دیوار کے پاس پہنچ کر پھر گر گئی۔ ریکی اب بھی جاری تھی۔ اب بھڑ نے رینگنا شروع کیا اور رینگتے رینگتے دیوار پر کئی فٹ اُوپر تک چلی گئی۔ ریکی اب بھی جاری تھی۔ کافی اُوپر جا کر بھڑ تھوڑی دیر کے لئے رکی، پھر اُڑان بھری اور میری نظروں سے غائب ہو گئی۔ کہاں وہ چیونٹیوں سے بھی جان نہیں چھڑا پا رہی تھی اور کہاں یہ کہ اُڑ کر چلی گئی۔ اُس پر ریکی کا یقیناً بہت اچھا اثر ہوا تھا۔ میں ابھی اُس کے متعلق ہی سوچ رہا تھا کہ اچانک ایک بھڑ اُڑتی ہوئی آئی اور میری پتلون کے پائنچے پر بیٹھ گئی۔ گو کہ میں جانتا تھا کہ بھڑ جسم کے ننگے حصّوں پر، خصوصاً چہرے پر حملہ کرتی ہے اور گرمیوں کے موسم میں ان کے حملے بہت عام ہوتے ہیں لیکن اس نے حملہ نہیں کیا بلکہ ایسی جگہ بیٹھی تھی جہاں سے میری ٹانگ کو چھو بھی نہیں سکتی تھی اور اس کا ڈنگ کسی صورت میری ٹانگ تک نہیں پہنچ سکتا تھا مگر پھر بھی میں نے اضطراری طور پر اسے اُڑانے کے لئے ٹانگ جھٹک دی۔ بھڑ تو اُڑ گئی لیکن میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کیا ہوا۔ ذرا سا غور کرنے پر محسوس ہوا کہ یہ وہی بھڑ تھی اور صحت یاب ہونے کے بعد میرا شکریہ ادا کرنے کے لئے واپس آئی تھی اور جان بوجھ کر ایسی جگہ بیٹھی تھی جہاں سے مجھے نقصان کا خوف نہ ہو۔ پتہ نہیں وہ کیا کرتی اور کتنی دیر بیٹھتی لیکن میری اضطراری حرکت نے اسے اُڑنے پر مجبور کر دیا۔

بھڑ کو ریکی دینے کا جو طریقہ میں نے استعمال کیا تھا وہ میں ریکی کے دوسرے درجے کی تربیّت کے دوران سکھاتا ہوں۔ اس طریقے سے کسی بھی انسان، جانور یا پودے کو ہاتھ لگائے بغیر ریکی دی جاسکتی ہے۔ اگر آپ ریکی سیکھ چکے ہیں تو نہ صرف اپنے پالتو جانوروں پر بلکہ ہو سکے تو دوسرے ضرورت مند جانوروں (اور پرندوں) پر بھی توجہ دیں اور اُن کی مدد کریں۔ اس کارِ خیر میں زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا اور آپ کو مثبت نتائج بھی ملیں گے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے