Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan

ریکی کے بارے میں غلط فہمیاں

کسی چیز کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ عام طور پر لا علمی، معلومات کا نامکمل یا پھر غلط ہونا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات مخصوص وجوہات کی بنا پر غلط فہمیاں پھیلتی یا پھیلائی جاتی ہیں۔ ان وجوہات کی تفصیل میں گئے بغیر میں اس مضمون میں ریکی کے بارے میں پائی جانے والی چند غلط فہمیوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں بلکہ معلومات کی درستگی ہے، اسی لئے میں کسی کا نام نہیں لکھ رہا۔ میری گزارش ہو گی کہ اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے۔

ایک بہت بڑی غلط فہمی ریکی کو جادو سے تعبیر کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ریکی کا جادو کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے پیارے مذہب اسلام میں تو ویسے بھی جادو کرنے کرانے سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ ریکی کا سیدھا سادہ تعلق قوتِ حیات سے ہے جسے آسان لفظوں میں زندگی بخش توانائی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اب یہ تو آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ہر جاندار جادو کی وجہ سے تو زندہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک بالکل بے بنیاد غلط فہمی ہے۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ محض تنگ نظری، نا سمجھی یا پھر کسی خاص مقصد کے تحت ریکی کو شیطانی طاقت اور شیطانی عمل تک سے تعبیر کرنے کی حد تک چلے جاتے ہیں جو کہ بہت ہی افسوسناک اور خلافِ حقیقت ہے۔

بعض لوگ اسے نفسیاتی علاج بھی سمجھتے ہیں حالانکہ ماہرِ نفسیات بول کر یعنی باتوں سے علاج کرتا ہے جبکہ ریکی سے علاج کرتے وقت بولنے اور کسی کے خیالات بدلنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کیا جاتا ہے۔ یہ غلط فہمی سراسر لا علمی پر مبنی ہے۔

ریکی سمبلز کی وجہ سے بعض لوگ اسے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اگر اس بارے میں تربیت کے دوران صحیح طریقے سے وضاحت کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ریکی کے سمبلز کا بھی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصولی طور پر دنیا بھر میں ریکی کے پہلے درجے میں کوئی سمبل سکھایا ہی نہیں جاتا۔

ریکی اور مذہب کے تعلق پر ایک مضمون پہلے لکھا جا چکا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بعض غیر مسلم ریکی ٹیچر ایسی باتیں بھی بتا جاتے ہیں جن کا تعلق ریکی سے نہیں بلکہ ان کے مذہب سے ہوتا ہے جس میں بنیادی طور پر دُعا کا طریقہ ہوتا ہے۔ ایسا طریقہ بعض ٹیچر سوچے سمجھے بغیر آگے بتا دیتے ہیں جو ہمارے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح ہم اپنے مذہب کے مطابق علاج کے دوران خدا سے شفأ کے لئے دعا کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ریکی سے علاج سے پہلے اور دوران بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ریکی ٹیچر کے بتائے گئے طریقے کی پابندی کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

سال 2011 کے آخر میں مجھے ایک ٹی وی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک صاحب نے فرمایا کہ اگر کسی کو اٹیونمنٹ کے بعد کسی وقت انستھیسیا دے دیا جائے، جیسا کہ آپریشن کے لئے دیا جاتا ہے تو اس کی اٹیونمنٹ ختم ہو جاتی ہے اور دوبارہ لینی پڑتی ہے۔ میں یہ سُن کر حیران رہ گیا کہ ان صاحب نے یہ کیسی بات کر دی حالانکہ اٹیونمنٹ کا شعور کے ساتھ تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ گو کہ میں جانتا تھا کہ یہ بات غلط ہے مگر پھر بھی میں نے اپنے دونوں امریکن ٹیچروں سمیت دنیا کے چند چوٹی کے ریکی ٹییچروں کے ساتھ ای میل پر رابطہ کیا۔ ان میں میرے ٹیچر محترمہ میری این مور، جناب ڈان بیکٹ (جو سال 20 اگست 2012 کے روز وفات پا گئے)، امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ ریکی ٹیچر ولیم لی رینڈ، جرمنی کے عالمی شہرت یافتہ اور ریکی پر کئی کتابوں کے مصنف فرینک ارجاوا پیٹر اور کینیڈا کے ریکی ٹیچر رچرڈ ریورڈ شامل تھے، ان سب نے بڑی سختی سے تردید کی۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اصل بات کیا ہے اور اٹیونمنٹ ختم ہو جاتی ہے یا نہیں۔ اسی ٹی وی پروگرام میں اور بھی کئی باتیں کہی گئیں جن سے میں اس وقت صرف نظر کرتا ہوں کیونکہ اس مضمون کا موضوع مختلف ہے۔

حال ہی میں ریکی پر ایک وڈیو دیکھنے میں آئی۔ مقرر جو کہ ریکی ماسٹر ہونے کے دعوے دار تھے، نے فرمایا کہ اٹیونمنٹ کے بعد آپ پریکٹس نہیں کر سکتے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ پھر کیا کر سکتے ہیں اور ریکی سیکھنے اور اٹیونمنٹ لینے کا فائدہ؟ حالانکہ پہلا سبق ہی یہ ہوتا ہے کہ فوراً پریکٹس شروع کریں اور سب سے پہلے اپنے آپ کو ریکی دینا شروع کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا جا سکتا تو پھر ریکی سیکھنا ہی بیکار ہے۔ معلوم نہیں ایسی غلط بات کہنے سے ان کا مقصد کیا تھا۔ یہ وڈیو میرے پاس محفوظ ہے۔

آخر میں پھر وہی بات جو میں اکثر کہتا ہوں کہ ریکی کے بارے میں کتابوں سے استفادہ کریں، تنگ نظری سے بچیں اور ادھر اُدھر کی باتوں پر توجہ نہ دیں ورنہ غلط فہمیاں ختم ہونے کی بجائے بڑھ بھی سکتی ہیں۔ اگر ریکی سیکھنے کا ارادہ کریں تو ریکی ٹیچر کا چنائو احتیاط سے کریں۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے