Reiki for health care and well-being, Reiki training classes in Urdu and English, Reiki Master/Teacher Muhammad Akram Khan in Lahore, Pakistan
 

پاکستان میں ریکی کا مقام اور رُحجان

جدید دنیا میں ریکی ایک نسبتاً نیا طریقہ علاج ہے جسے متعارف ہوئے ابھی تقریباً ایک صدی ہی گزری ہے۔ پاکستان میں ریکی پچھلی صدی کے آخری عشرے میں متعارف ہوئی۔ پچھلے چند سالوں میں ریکی پر بہت سے ٹی وی پروگرام ہوئے، پرنٹ میڈیا میں بھی کافی کچھ لکھا گیا اور انٹرنیٹ پر سینکڑوں ویب سائٹس بھی بنیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اب بھی معلومات کی کمی ہے، لوگوں کو پڑھنے میں دلچسپی نہیں ہے یا پھر اس پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ اتنے آسان طریقے سے بھی علاج ہو سکتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہم پاکستانی اس سلسلے میں بھی ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔

World has gone far ahead but we are still doubting Reiki

بہت سے لوگ ریکی کو جادُو کی قسم کی کوئی چیز، وہم یا فراڈ خیال کرتے ہیں جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور ریکی ایک حقیقت ہے۔ ریکی چونکہ ایک نظر نہ آنے والی قدرتی توانائی ہے، بعض خواتین و حضرات کو اس کے مذہب کے ساتھ تعلق میں بھی شبہ ہوتا ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ریکی میں کوئی چیز مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ ریکی کا کسی مذہب سے سرے سے تعلق ہی نہیں ہے اور اس پر کافی کچھ لکھا بھی جا چکا ہے۔ دنیا میں ریکی کے موضوع پر بہت سی اچھی اور تفصیلی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو ہمارے یہاں یا تو ملتی ہی نہیں ہیں یا پھر بہت مہنگی اور انگلش میں ہونے کی وجہ سے مناسب توجہ حاصل نہیں کر پائیں۔ بہر حال وجہ جو بھی ہے، پاکستان میں ابھی تک ریکی اپنا جائز مقام حاصل نہیں کر سکی جبکہ بیرونی دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں سے کئی نے ریکی کے استعمال میں کافی پیش رفت کر لی ہے۔ ایسے ملکوں کے کئی اسپتالوں میں پیچیدہ امراض میں مبتلا اشخاص کو خاص طور پر ریکی دی جاتی ہے۔ ان میں سرِفہرست امریکہ ہے۔ دیگر ممالک میں جنوبی افریقہ اور انگلینڈ وغیرہ شامل ہیں اور میرے علم کے مطابق ارجنٹائن بھی اس دوڑ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ اگر ریکی کوئی بیکار یا نقصان دہ چیز ہو تی تو ان ممالک خصوصاً امریکہ میں تو اس کی بالکل بھی اجازت نہ ہوتی۔

امریکہ میں سال 1998 میں لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق اُس وقت دنیا میں دو لاکھ سے زیادہ ریکی ماسٹر اور دس لاکھ سے زیادہ نچلے درجے کے ریکی پریکٹیشنر تھے۔ اب یہ تعداد یقیناً بہت زیادہ ہو چکی ہو گی لیکن ہمارے یہاں ریکی سیکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور بہت سست رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کیجئے